مشرقی یورپ میں نیٹو کی 4 ہزار اضافی فوج تعینات

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز سٹولٹینبرگ Jens Stoltenberg نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود نیٹو کا فوجی اتحاد روس کو خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی یورپ کے علاقے میں اضافی 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد احتیاط برتنا ہے اشتعال دلانا نہیں۔۔۔۔۔ کثیر ملکی فوجیوں پر مشتمل ایک ہزار فوجیوں کی چار بٹالین تشکیل دی گئی ہیں جو آئندہ برس کے اوئل میں پولینڈ، اسٹونیا، لاتوئیا اور لتھوانیا میں تعینات کی جائیں گی۔ ان فوجی بٹالینز کی قیادت امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کریں گے۔۔۔سرد جنگ کے اختتام کے بعد روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان آج کل تعلقات کافی خراب ہیں۔۔۔2014 میں یوکرین کے جزیرے کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔۔۔شام کی جنگ کے حوالے سے بھی مغربی طاقتوں اور روس کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ ۔۔لیکن نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز سٹولٹینبرگ Jens Stoltenberg کا کہنا ہے کہ نیٹو کو روس سے فوری طور پر تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔۔یقین ہے کہ روس نے اپنی مغربی سرحد کے قریب تین لاکھ 30 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.