لاہور میں دھند نہیں – دھویں کا زہریلا بادل

اس آلودہ بادل کےبننےکی وجہ نامیاتی مونوآکسایئڈ اورسلفر ڈائی آکسائیڈ کاشامل ہونا ہے۔ ڈینگی کےبعد اب ۔۔۔۔۔اس آلودہ بادل کی وجہ سےپورے شہر میں آنکھوں، گلے، پھیپھڑوں اور سانس کے مختلف خطرناک امراض کےبڑھنے کا خطرہ ہے۔ اب جائزہ لیتے ہیں دنیا بھر میں ہونے والے آلودگی کے مسائل اور اس سے ہونے والی اموات کے بارے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کیا کہتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں اندرونی اور بیرونی فضائی آلودگی کی وجہ سے 6 ملین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک فضائی آلودگی PM 2.5 کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے 90 فیصد افراد سانس کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مبصرین کا کہنا کہ لاہور میں فضائی آلودگی کی بڑی وجہ شہر میں بڑھتے ہوئے تعمیراتی پراجیکٹس اور جلسے جلوسوں میں کی جانے والی شیلنگ، آنسو گیس ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پا کستان کے شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی مستقبل میں مزید خطرات کا عندیہ دیتی نظر آرہی ہے۔ نامور ماہر ماحولیات احمد رافع عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑے اور صنعتی شہروں میں فضائی آلودگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ حکومت اور مختلف این جی اوز اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ کام کرتی نظر نہیں آرہیں۔۔۔

آج لاہور میں علی الصبح سےہی دھند کےاثرات چھائےہوئےہیں دراصل اس کی بڑی وجہ گیس چیمبرز کیمیکلزاوردھویں کا زہریلا بادل ہے جس نے پورے شہرکو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.