|
لاہور...برصغیر کی فلمی دنیا میں ملکہ غمگین کہلائی جانے والی سورن لتا کی آج دوسری برسی منائی جارہی ہے۔ خوبصورت مسکراہٹ اور اداس آنکھوں والی اداکارہ سوارن لتا پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ایک انمول ہیرا تھیں، تقسیم ہند کے بعد اپنا کیریئر چھوڑ کر پاکستان آگئیں اور پاکستان فلم انڈسٹری کو چار چاند لگا دیئے۔ انہیں فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے. سورن لتا نے انیس سو چوبیس میں راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں آنکھ کھولی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد لکھنو کی موسیقی اور آرٹ اکیڈمی میں موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ انہوں نے انیس سو چالیس میں ممبئی سکونت اختیار کرکے سٹیج فنکارہ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا جس کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کی قسمت کا ستارہ چمکا اور انیس سو بیالیس میں پہلی فلم ’’آواز‘‘ ریلیز ہوئی۔ قیام پاکستان سے قبل انہوں نے کئی ہندی فلموں میں کام کیا مگر تقسیم ہند کے بعد اپنا کیریئر چھوڑ کر پاکستان آگئیں اور پاکستان فلم انڈسٹری کو چار چاند لگا دیئے۔ انہیں فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم ’’پھیرے‘‘ میں اپنی لاجواب اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہیں فلم انڈسٹری کی ’’ٹریجڈی کوئین‘‘ یعنی ملکہ غمگین کا خطاب دیا گیا۔ سوارن لتا نے سولہ ہندی فلموں اور سترہ اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، لارے، نوکر، ہیر اور سوال شامل ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرکے اپنے دور کے مشہور اداکار اور ہدایتکار نذیر احمد سے شادی کی جن سے ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوا۔ آٹھ فروری دو ہزار آٹھ کو فلم انڈسٹری کا یہ چمکتا ستارہ اپنی زندگی کے تراسی سال گزار کر ہمیشہ کے لئے ماند پڑ گیا۔
|