شام:روسی فوج کے شہر حلب پر فضائی حملے باغیوں کے حملوں میں ستر سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں،آبزرویٹری

halab

شامی اپوزیشن کے ادارے سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ شامی باغی گزشتہ آٹھ ایام سے حلب شہر کے اُس حصے پر حملے کر رہے ہیں جہاں بشارالاسد کی فوج کو کنٹرول حاصل ہے۔ ان حملوں میں چوہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں پچیس بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ روسی بمبار طیارے مغربی حلب میں سولین آبادی پر نصف ٹن وزنی امبریلا بم گرا رہے ہیں جن کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہفتے کو روسی بمبار طیاروں نے جنوبی حلب کے علاقوں دارالعزۃ، اورم الکبریٰ، ابین، الارتباب، رجمنٹ چھ اور رجمنٹ چالیس پر امبریلا بموں سے حملے کیے جس کےنتیجے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور کم سے کم تین شہریوں کے مارے جانے اور دسیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی فوج بمبار طیاروں سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ’امبریلا‘ بم گراہی ہے۔ یہ ایک بم کئی کثیرالمنزلہ عمارتوں کو منہدم کردیتا ہے۔۔۔رائٹرزکا کہنا ہے کہ اب روس بھی اپنی باضابطہ فوج کے ساتھ اجرتی قاتلوں کو شام کی جنگ میں استعمال کررہا ہے۔ روس کی نجی ملیشیا بھی شام کی جنگ میں اجرتی قاتلوں کے طور پر لڑ رہی ہے۔۔۔حالانکہ روس اس سے قبل یہ دعویٰ کرتا آیا ہے ماسکو شام میں صرف فضائی آپریشن میں حصہ لے رہا  ہےاور اس کی محدود تعداد میں ایلیٹ فورس شام میں موجود ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.