کرد اورعرب افواج کا رقہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا فیصلہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کیخلاف آپریشن کا آغاز

in10

امریکی اتحاد میں شامل کرد اور عرب افواج کا کہنا ہے کہ وہ شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی خود ساختہ ‘خلافت’ کے دارالخلافہ رقہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر رہے ہیں۔
سیرئین ڈیموکریٹک فورسز کے مطابق وہ یہ آپریشن شروع کر رہے ہیں جس میں انھیں امریکی اتحادیوں کی جانب سے فضائی مدد بھی حاصل ہو گی۔اس آپریشن کو ’فرات کا غصہ‘ نام دیا گیا ہے۔ نھوں نے وہاں موجود عام شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں جہاں اس وقت دولت اسلامیہ کے جنجگجو موجود ہیں۔کرد اور عرب اتحادی ملیشیا رقہ شہر کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔یہ آپریشن ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دوسری جانب عراق میں دولتِ اسلامیہ کے سب سے مضبوط گڑھ موصل سے تنظیم کو نکالنے کے لیے امریکی اتحاد میں لڑنے والی عراقی افواج بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔سیرئین ڈیموکریٹک فورسز میں زیادہ بڑی تعداد کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹس یعنی وائے پی جی ملیشیا کی ہے اور یہ گذشتہ دو سالوں کے دوران شمالی شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے اہم اتحادی کے طور پر سامنے آئی ہے۔شام کے پڑوسی ملک ترکی کے اس آپریشن میں حصہ لینے کے امکانات نہیں ہیں۔ کیونکہ ترکی کے خیال میں وائے پی جی شدت پسند تنظیم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ رقہ کو چھڑوانے میں کردوں کا کردار قبول نہیں کرے گا۔ھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی اس شہر میں مقیم ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.