ترکی میں زیادتی سے متعلق قانون پر ہزاروں افراد کا احتجاج

حکومت کا اصرار ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد بچوں کی شادی سے متعلق جاری روایت سے نمٹنا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کیساتھ زیادتی کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔استنبول میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کے دوران تالیاں بجاتے ہوئے نعرے لگائے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ازمیر اور تربزن سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔اس قانون کے تحت اس شخص کو رہا کر دیا جائے گا جو کسی کم سن لڑکی کو بنا کسی جبر، دھمکی کے ریپ کرتا ہے تاہم وہ بعد ازاں اس سے شادی کر لیتا ہے۔وزیر انصاف بیکر بوزداگ نے نیٹو کے اجلاس میں کہا تھا کہ اس بل کے تحتزیادتی کرنے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی۔پارلیمان نے اولین منظوری دے دی ہے۔اقوامِ متحدہ میں بچوں کے ادارے نے اس بل پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ادارے کے ترجمان کرسٹوف بولیریس کا کہنا تھا بچوں کے خلاف ایسے قابلِ نفرت تشدد جو جرم بھی ہیں انھیں ہر لحاظ سے قابلِ سزا ہونا چاہیے

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.