شدید مزاحمت کا سامنا

بتایا گیا ہے کہ عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے فوجی گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں سے مسلح اہلکاروں کو عسکریت پسندوں کی جانب سے بم حملوں اور اندھا دھند فائرنگ کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلڈوزروں اور ٹینکوں کی مدد سے موصل شہر میں داخل ہونے والی سرکاری فورسز کو امریکی قیادت میں بین الاقوامی عسکری اتحاد کی بھرپور فضائی مدد حاصل ہے۔ان علاقوں سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر کے کرد اکثریتی آبادی والے علاقے خضر میں قائم کیمپ میں پہنچ رہے ہیں۔عراق کی اسپیشل فورسز نے داعش کے زیر قبضہ شہر موصل کے مشرقی جانب جمعہ کو مزید قصبوں میں کارروائیوں کا تیز کر دیا اسپیشل فورسز کے لیفٹیننٹ کرنل محند التمیمی نے میڈیا کو بتایا کہ توپ خانے اور راکٹ باری کی مدد سے یہ پیش قدمی عدن، تحریر اور قدس کے علاقوں میں کی گئی۔۔۔ شدت پسندوں کی طرف سے فورسز پر مارٹر گولے داغے گئے اور دونوں جانب سے شدید لڑائی جاری ہے۔عراقی فورسز نے کرد پیش مرگہ اور شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر امریکی زیر قیادت اتحادی فورسز کی فضائی مدد سے گزشتہ ماہ سے موصل کو واگزار کروانے کی کارروائی شروع کی تھی۔

شمالی عراقی شہر موصل میں گلی گلی لڑائی جاری رہی، جب کہ سرکاری فورسز کو شدت پسندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ سن 2014ء میں اس شہر پر اسلامک اسٹیٹ کے قبضے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی فورسز موصل شہر میں داخل ہوئی ہیں۔

موصل میں عراقی فورسز کو شدت پسندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا،اسلامک اسٹیٹ کے شہر پر قبضے کے بعد پہلی دفعہ عراقی فورسزموصل شہر میں داخل

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.