یمن میں لڑائی،نصف سے زائد طبی مراکز متاثر،عالمی ادارہ صحت

People search for survivors under the rubble of houses destroyed by Saudi airstrikes near Sanaa Airport, Yemen, Thursday, March 26, 2015. Saudi Arabia launched airstrikes Thursday targeting military installations in Yemen held by Shiite rebels who were taking over a key port city in the country's south and had driven the embattled president to flee by sea, security officials said. (AP Photo/Hani Mohammed)
People search for survivors under the rubble of houses destroyed by Saudi airstrikes near Sanaa Airport, Yemen, Thursday, March 26, 2015. Saudi Arabia launched airstrikes Thursday targeting military installations in Yemen held by Shiite rebels who were taking over a key port city in the country’s south and had driven the embattled president to flee by sea, security officials said. (AP Photo/Hani Mohammed)

عالمی ادارہ برائے صحت نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی کے سبب نصف سے زائد طبی مراکز یا تو مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں یا پھر جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔
یمن میں جاری لڑائی کے سبب نصف سے زائد طبی مراکز یا تو مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں یا پھر جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سروے کے مطابق یمن کے 16 صوبوں میں تین ہزار 507 طبی مراکز مکمل طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو کہ مجموعی طبی مراکز کے محض 45 فیصد ہیں۔یمن کے 276 اضلاع میں کیے گئے سروے کے مطابق 42 فیصد طبی مراکز میں صرف دو دو ڈاکٹر ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صحت عامہ کی خدمات نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو زندگی بچانے کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔یمن میں 20 لاکھ افراد غذائیت میں کمی کا شکار ہیں اور ان میں سے تین لاکھ 70 ہزار وہ بچے بھی شامل ہیں جنھیں غذائیت کی شدید کمی ہے۔عالمی ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ بیماریوں کی روک تھام کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہیضہ، خسرہ، ملیریا اور دوسرے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ہے۔اب تک ہیضے سے چار اموات کی تصدیق ہوئی ہے اور دستوں کی وجہ سے جسم میں پانی کی شدید کمی کے سبب 42 افراد مارے گئے ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.