ڈونالڈ ٹرمپ کی پہلی ٹیم کا اعلان

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین رائنس پریبس کو اپنا مستقبل کا چیف آف سٹاف منتخب کر لیا ہے۔  جبکہ  سٹیون بینن ان کے مرکزی پالیسی ساز ہوں گے۔

پریبس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ٹرمپ اور ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ ۔۔۔چیف آف سٹاف کی حیثیت سے پریبس وائٹ ہاؤس کا ایجنڈا طے کریں گے اور کانگریس اور حکومت کے درمیان رابطہ کار کے فرائض سرانجام دیں گے۔سٹیون بینن ان کے مرکزی پالیسی ساز ہوں گے۔۔۔ ڈونالڈٹرمپ نے ایک بیان میں کہاکہ  انہیں امریکا کی رہنمائی کے لیے اپنی بہت کامیاب ٹیم کا ساتھ میسر آنے پر بہت خوشی ہے۔۔سٹیو اور رائنس انتہائی باصلاحیت رہنما ہیں ۔۔۔۔44 سالہ پریبس نے صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی کے درمیان پل کا کام کیا تھا۔۔۔وہ 2011 میں آر این سی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے پارٹی کے ترجمان اور چیف فنڈ ریزر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔۔۔ دائیں بازو کے بینن کو سفید فام قوم پرست اور یہود مخالف رہنما سمجھا جاتا ہے ۔۔انھوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا چیف آف سٹاف بننے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نومنتخب صدر اور قوم کی خدمت کا یہ موقع ملنے پر بہت شکرگزار ہیں۔ ایسی معیشت وضع کریں گے جو سب کے کام آئے گی، ہم اپنی سرحدیں محفوظ بنائیں گے، اوباما کیئر کو ختم کریں گے اور بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کو شکست دیں گے۔۔۔آئرش کیتھولک  بینن بریٹ بارٹ نیوز سائٹ کے مالک ہیں جہاں سےوہ نسل پرستانہ مہم چلاتے رہے وہ  ہالی وڈ کے پروڈیوسر اورگولڈ مین ساچیزکے سابق بینکر بھی رہے ۔ یہودیوں کے خلاف انہوں نے کہا تھا کہ وہ برداشت نہیں کرینگے کہ ان کی بیٹیاں یہودیوں کے اسکول جائیں ۔۔ دونوں  رہنماؤں کا انتخاب  ری پبلکن پارٹی  اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سول وار چھیڑے جانے  کے مترادف ہے کیونکہ یہ دونوں نسل پرستانہ خیالات کے حامل ہیں۔۔۔۔تاہم ان کی قابلیت اور پارٹی میں اثرورسوخ میں کوئی شبہ نہیں۔۔۔ معتدل مزاج رہنماؤں نے ان کی تعیناتی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.