ڈیمو کریٹس آنے والے سیاہ دنوں کے لئے تیار رہیں۔۔۔تجزیہ کار سینٹ میں بھی ڈیمو کریٹس کے لئے پریشانیاں بڑھ جائیں گی

in7

اگر ٹرمپ اور رپبلکنز جیت جاتے ہیں تو ڈیموکریٹس کو آنے والے سیاہ دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔۔۔سینٹ میں ڈیموکریٹس پہلے ہی اقلیت میں  ہیں
امریکا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد رواں برس 20 کروڑ تک پہنچ گئی تھی جو ایک ریکارڈ ہے جبکہ ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زائد رہا ہے۔۔2012 کے انتخاب میں 24 کروڑ 10 لاکھ افراد ووٹنگ کی عمر کو پہنچ چکے تھے تاہم صرف 12 کروڑ 91 لاکھ افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور ٹرن آؤٹ 53.6 فیصد رہا تھا۔۔اس وقت سینیٹ کی سو نشستوں میں رپبلکنز کے پاس زیادہ نشستیں ہیں۔ اگر صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کامیاب ہوتی ہیں تو انھیں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری بھی درکار ہو گی تاکہ وہ اہم عہدوں جیسے سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی میں معاونت کرے۔۔۔دوسری صورت میں اگر ٹرمپ کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری ملتی ہے تو اُن کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ رپبلکن کے ایجنڈے کو بخوبی آگے بڑھا سکتے ہیں۔۔۔تاریخی لحاظ سے تو صدارتی امیدوار کو سینیٹ میں بھی برتری ملتی ہے لیکن یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدارتی الیکشن کوئی معمول کا انتخاب نہیں ہے۔ سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والے رپبلکن امیدواروں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔سابق صدارتی امیدوار مارکو روبیو رپبلکن سیاست میں ابھرتے ہوئے امیدوار ہیں اور وہ فلوریڈا ہونے والے دوبارہ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔آئندہ دو برسوں میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ کی سٹیں بچانے کے لیے زیادہ محنت کرنا ہو گی اور اُس کے لیے انھیں ابھی سے کام کرنا ہو گا یا پھر سینیٹ میں اقلیت بننے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ ۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.