دنیا بھر میں حکومتیں بدلنے والے امریکا میں شہری نو منتخب صدرکے خلاف سڑکوں پر آگئے

in7

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا۔۔۔۔۔  مصر کے تحریر اسکوائر میں ہنگامہ ہو یا تیونس سمیت عرب دنیا میں انقلاب کی بہار۔۔۔ لیبیا ، عراق اور اب شام میں خانہ جنگی امریکا کی مداخلت کی روشن مثالیں ہیں۔۔۔۔۔  امریکا اور  سی آئی اے نے  سرمایہ دارانہ مفادات کے لئے دنیا بھر کے ملکوں میں حکومتیں اس طرح بدلیں جیسے روزانہ لباس بدلا جاتا ہے اور اب سامنا ہے مکافات عمل کا۔۔۔۔ امریکا کی تاریخ میں پہلی دفعہ نومنتخب صدر کے  خلاف احتجاج جاری ہے۔۔۔۔۔۔ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہوتے ہی امریکا بدل گیا۔۔۔۔۔ امریکیوں نے ٹرمپ کو صدر ماننے سے انکار کیا ہے ۔۔۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت امریکا کے گلے کا پھندا بن کر سامنے آئی ہے۔۔۔۔۔۔ امریکا کا معاشرہ کبھی تیزی سے آگے بڑھتا اور پھلتا پھولتا سماج تھا لیکن اب اس کے خاتمے کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔

62 فیصد امریکی کہتے ہیں کہ وہ ہنگامی حالت میں 500 ڈالرز کی ادائیگی بھی نہیں کر سکتے۔ اگر ان میں سے کسی کو ہپاٹائٹس کی گولی خریدنے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نہیں خرید سکتا۔ اے اے آر پی کی تحقیق کے مطابق 115 خصوصی ادویات کے ساتھ علاج کی سال بھر کی اوسط لاگت 50 ہزار ڈالرز سے زیادہ ہے جو اوسط سوشل سیکورٹی سے تین گنا زیادہ ہے۔۔  یہ وہ امریکا ہے جہاں وسل بلوؤرز۔۔ایڈورڈ سنوڈین، چیلسی میننگ اور جان کریاکو نے اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو جگانے کی کوشش کی تو انہیں جاسوسی، بمباری اور تشدد کے حوالے سے اہم معلومات منظر عام پر لانے کی وجہ سے رسوائی کا سامنا  کرنا پڑا۔۔۔ ۔۔۔۔امریکا میں آنے والی تبدیلی شاید دنیا کی تباہی کا سبب بن جائے لیکن یہ پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کی عوام کی خواہش ہر گز نہیں۔۔۔  ہنگامہ خیز انتخاب  کے بعد بہت زیادہ غصہ اور بے اطمینانی  اب عوام کے احتجاج کی شکل میں باہر آرہی ہے۔۔۔۔واشنگٹن کے خلاف عوامی نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا ہے۔۔۔۔۔ امریکا میں امیر اور غریب کی خلیج مزید واضح ہوچکی ۔۔۔ ۔کیا امریکا کے طول وعرض میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ایک خانہ جنگی کی طرف بڑھیں گے? کیا بلیک لائیوز میٹر،،، اور آئی کانٹ برید۔۔۔۔ جیسے سیاہ فام امریکیوں کی تحریکیں بھی نئی زندگی پکڑ لیں گی? ان سوالوں کے جواب ابھی آنے باقی ہیں۔۔۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.