صدراوباما نے روسی ہم منصب پیوٹن سے ہاتھ ملاتے ہوئے منہ موڑ لیا

جنوبی امریکی ملک پیرو میں اے پیک سربراہ کانفرنس کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا مطلب صرف.انتخاب نہیں۔ ۔۔۔۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر ممالک میں تجارت پر کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت کا منصب سنبھالنے دیں اور اس کے بعد ان کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر نقائص کی نشاندھی کریں

 اس موقع پر ان کی صدر پیوٹن سے ملاقات تو ہوئی لیکن یہ ملاقات کم اور سرد مہری کا اظہار زیادہ تھی۔۔۔ صدر اوباما نے ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے منہ موڑ لیا اور دوسرے حاضرین سےبات کرتےرہے

دوسری طرف اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھاکہ نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ روس امریکا تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔۔ اس موقع پر انہوں صدر اوباما کا بھر پور تعاون کرنے پر بھی شکریہ ادا  کیا

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.