درگاہ شاہ نورانی دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار

7کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کے لیے بال بیرنگز کا بھی استعمال کیا گیا، مزار پر کوئی چاردیواری نہیں ہے۔شاہ نورانی مزار پر خودکش حملے کرنے والا کم عمر اور افغانی لگتا تھا،تحقیقاتی حکام کے مطابق دھماکے میں ایک سے زائد کالعدم تنظیموں کا گٹھ جوڑ تھا۔بلاول شاہ نورانی کا مزار خضدار میں لیویز ایریا میں آتا ہے، جہاں مزار اور اس کے اطراف میں 12 لیویز اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔تحقیقاتی حکام کے مطابق شاہ نورانی کے مزار کے اطراف کوئی چار دیواری نہیں تھی اس لیے مزار پر میٹل ڈیٹیکٹر یا واک تھرو گیٹس بھی نہیں لگائے گئے تھے۔حکام کے مطابق اس طرح کے دھماکے کراچی میں عبداللہ شاہ غازی، داتا دربار لاہور اور پشاور کے رحمان بابا اور پنج پیری مزارات میں ہوچکے ہیں

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.