ملیر میں مظاہرین کا پتھراؤ

clash-claims-two-lives

دن نیوز کے مطابق شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کے بعدقانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آگئے، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں، جس پر عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ مختلف رہنماؤں سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کےخلاف کراچی شرقی کا علاقہ ملیر 15پر نیشنل ہائی وے سارا دن میدان جنگ بنا رہا، مظاہرین مجلس وحدت المسلمین کے رہنماﺅں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے پر آگئے اور سڑک کو دونوں اطراف سے بند کر دیا، ٹرین کی آمدورفت بھی رک گئی۔ احتجاجی مظاہرے نے دھرنے کی شکل اختیار کرلی تھی، اس دوران پولیس نے 4افراد کو حراست میں لے لیا ، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ دھرنا ختم کیلئے مظاہرین اور ایس ایس پی کورنگی کی قیادت میں پولیس کے درمیان مذاکرات ہوئے ، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ زیرحراست 4 افراد کو رہا کیا جائے، پولیس نے ان افراد کو رہا کردیا ، لیکن اس کے باوجود مظاہرین منتشر نہ ہوئے۔ مذاکرات کیلئے آنے والی ٹیم پر مظاہرین نے پتھراﺅ کر دیا جس سے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے جس پر پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج کیاگیا جبکہ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ۔ پولیس نے مجلس وحدت المسلمین سمیت مذھبی جماعتوں کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرکے نیشنل ہائی وے پر ٹریفک بحال کر دی، تاہم بعد میں بھی مختلف مقام پر مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان کبھی کبھی آنکھ مچولی جاری ہے اور مظاہرین گلیوں سے پولیس اہلکاروں پر پتھراﺅ کرتے  رہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین قریب واقع ایک عمارت سے پتھراؤ کررہے ہیں۔

ملیر 15نیشنل ہائی وے پر مذہبی جماعتوں کے کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے ، مظاہرین کے پتھراﺅ کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کر دی اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا ۔مجلس وحدت المسلمین کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔

کراچی کےعلاقہ ملیر15میں حالات کشیدہ، مظاہرین کے پتھراو سے پولیس اہلکارکا سر پھٹ گیا،،، پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ ،، 8گھنٹے سے بند نیشنل ہائی وے کو پولیس نے کھلوا دیا،، ٹرینوں کی آمدروفت بحال

پولیس کی ہوائی فائرنگ اور شیلنگ، متعدد مظاہرین زیر حراست

نیشنل ہائی وے پر ٹریفک اور ٹرینوں کی آمدروفت بحال

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.