دشوار گزار اور پہاڑی راستے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر،،، انسانیت کے دشمنوں نے پھر مذہبی مقام کو نشانہ بنایا، حب کے پہاڑی علاقے میں واقع درگاہ حضرت شاہ بلاول نورانی پر اس وقت دھماکا ہوا، جب وہاں دھمال جاری تھی اورخواتین و بچوں سمیت 500سے زائدافرادموقع پر موجودتھے۔ جاں بحق اور زخمیوں کولیویز، ایدھی اور سول سائٹی کے افراد نے اپنی گاڑیوں میں جام غلام قادراسپتال اور کراچی کے سول اسپتال منتقل کیا، امدادی کاموں میں پاک فوج، رینجرز کی ٹیموں، جوانوں اور ڈاکٹرز نے بھی حصہ لیا، واقعےمیں ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے، جاں بحق افراد میں عورتیں اور بچےبھی شامل ہیں۔ بلاول شاہ نورانی کی درگاہ کراچی سےدوسو کلومیٹر دورہے جبکہ پہاڑی راستہ ہونے کی وجہ سےوہاں قرب و جوار میں مواصلاتی ذرائع بھی نہیں ہیں اور امدادی اداروں کوریسکیو آپریشن میں سخت مشکلات کاسامنا ہے۔ وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے 52 افراد کی ہلاکت اور105 زخمیوں کی تصدیق کردی، انہوں نے کہا کہ زخمیوں کوخضدار، لسبیلہ اور کراچی کےاسپتالوں میں منتقل کیا جارہاہے۔کمشنرخضدارکاکہناہےکہ ابتدائی تحقیقات کےمطابق دھماکا خودکش لگتا ہے، مزارپردھمال جاری تھی کہ خودکش حملہ آورنے خودکودھماکےسےاڑالیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے دھماکےمیں جاں بحق افراد کےلواحقین سےدکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئےزخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنےکی ہدایات کردی ہے۔ صدر مملکت اور چیئرمین تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.