ای میلز اسکینڈل کی تحقیقات کااعلان ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا،ہلیری

ہلیری کلنٹن نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی مداخلت کو اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل جیمز کومی کی جانب سے ان کے بطور وزیرِ خارجہ ای میل کے استعمال کے بارے میں تحقیقات کھولنے کے اعلان نے ان کی مہم کے تحرک کو متاثر کیا۔ہلیری کلنٹن اپنی جماعت کے عطیہ کنندگان سے فون پر گفتگو کر رہی تھیں جو میڈیا پر افشا کر دی گئی۔اس دوران امریکہ بھر میں ان کے حریف نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔
نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں دو ہزار کے لگ بھگ لوگوں نے گلیوں میں یہ نعرہ لگاتے ہوئے جلوس نکالا کہ ‘میرا صدر نہیں۔’ اس کے بعد وہ اس عمارت کی جانب بڑھے جہاں نومنتخب صدر رہتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی رات کے وقت مظاہرے ہو رہے ہیں۔اکتوبر کو جیمز کومی نے کانگریس کو خط لکھ کر مطلع کیا تھا کہ وہ کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں اس تفتیش کا ازسرِ نو آغاز کر رہے ہیں جو جولائی میں ختم کر دی گئی تھی۔اس کے بعد انتخابات سے صرف دو روز قبل انھوں نے ایک اور خط میں کہا کہ وہ اپنے ابتدائی جائزے پر قائم ہیں کہ کلنٹن کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی۔کلنٹن نے عطیہ کنندگان سے کہاانتخابات میں ناکامی کی بہت سے وجوہات ہیں، لیکن ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ کومی کے خط نے، جس میں بےبنیاد شکوک اٹھائے گئے تھے، ہمارا تحرک ختم کر دیا۔ ہم گر گئے اور اس کے بعد ہمیں سخت جدوجہد کرنا پڑی۔امریکی میڈیا کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ کومی کے دوسرے خط نے ٹرمپ کے حامیوں کو مزید توانائی دے دی۔کلنٹن 2009 سے 2013 تک صدر اوباما کی انتظامیہ میں وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ بدھ کو امریکی صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کے بعد سے پس منظر میں ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.