معاہدہ کولمبیا حکومت اور باغی تنظیم فارک کے درمیان ہوا

سابق صدر الوارو اروبے، جنھوں نے ریفرینڈم کے دوران نہیں کے حق میں مہم چلائی تھی، اس مرتبہ ہونے والے مذاکرات کی سربراہی کر رہے ہیں جن کا مقصد 52 برس پرانی خانہ جنگی ختم کرنا ہے۔ابتدائی معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے بہت زیادہ حق میں تھا۔نئے معاہدے کی منظوری پارلیمان دے گا اور اسے عوام کے سامنے رائے شماری کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا۔مشترکہ بیان میں حکام نے کہا:ہم نے مسلح تنازع ختم کرنے کے لیے حتمی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس میں تبدیلیاں، وضاحتیں اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے کچھ نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔یہ معاہدہ کیوبا اور ناروے کے سفارت کاروں نے پڑھ کر سنایا جو کیوبا کے دارالحکومت ویانا میں ثالثی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔دو اکتوبر کو ایک ریفرینڈم میں 50.2 فیصد ووٹروں نے گذشتہ معاہدہ مسترد کر دیا تھا۔لوگوں کی اکثریت نے اس میں اعترافِ جرم کرنے والے جنگجوؤں کو دی جانے والی نرم سزاؤں پر اعتراض کیا تھا۔ ان میں سے بعض کو عام جیلوں میں کوئی وقت نہیں گزارنا تھا۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی اعتراض کیا گیا تھا کہ حکومت فارک کے سابق باغیوں کو ماہانہ وظیفہ اور کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی اعانت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔رائے عامہ کے ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوا تھا کہ معاہدہ آسانی سے منظور ہو جائے گا لیکن جب نتائج آنا شروع ہوئے تو معلوم ہوا کہ اسے ضرورت سے کم حمایت حاصل ہے

 

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.