اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو2 نومبر کو شہر بند کرنے سے روک دیا

11

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو دو نومبر کو شہر بند کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے نہیں دیا جائے گا۔بدھ کے روز اسلام آباد میں عمران خان کے دھرنے کو روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سیکریٹری داخلہ سے کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو جلسے کے لیے کوئی ایک مخصوص مقام فراہم کیا جائے اور انھیں وہاں تک محدود رکھا جائے۔عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دو نومبر کو شہر میں کوئی سکول اور کالج بند نہیں کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر میں کسی بھی مقام پر کنٹینرز نہ لگائے جائیں۔عدالت نے مزید کہا ہے کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن اس کے لیے شہر کو بند نہیں کیا جا سکتا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے عمران خان کو 31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا بھی کہا ہے۔دھرنا روکنے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جج شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے شہر کو بند کرنے کی تقاریر ان کی موجودگی میں ہی سنی جائیں گی اور اس پر ان سے وضاحت طلب کی جائے گی۔شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عمران خان کے جلسے کے لیے پریڈ ایوینیو میں انتظامات کریں اور انھیں وہیں تک محدود رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومتی مشینری کو جام کرنا چاہتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت میں مزید کہا کہ امپائر یا تھرڈ امپائر کوئی نہیں ہے صرف عدالتیں ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.