عراقی فوج کوپیش قدمی میں سخت مزاحمت کا سامنا

عراقی فوج نے موصل کا قبضہ چھڑانے کی مہم میں اب تک اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ یہ بات امریکی عسکری اتحاد کے لیے مقرر خصوصی امریکی ایلچی بریٹ میک گروک نے بتائی۔ اس دوران اِس عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں نے بھی اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں کو تواتر سے نشانہ بنایا۔ ہوائی حملوں کے ذریعے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کی اگلے محاذوں پر 136 پوزیشنوں، اٹھارہ زیر زمین سرنگوں اور خودکش حملوں میں استعمال کرنے والی چھبیس بارود سے لدی کار وں کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔ آپریشن کے دوران اب تک کئی قصبوں اور دیہات کو اسلامک اسٹیٹ کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے۔ عراقی فوج ابھی سب سے بڑے مسیحی قصبے قاراقوش کو بازیاب کرانے میں مصروف ہے۔۔۔عراقی شہر موصل کے باہر درجنوں عام شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق یہ لاشیں کم از کم بھی ستر افراد کی ہیں، جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ تاہم آزاد ذرائع نے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان افراد کو کس نے قتل کیا۔ عراقی فوج نے کرد جنگجوؤں اور شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر موصل کو اس دہشت گرد تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی کارروائی گزشتہ ہفتے شروع کی تھی

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.