سپریم کورٹ نے دونوں فریقین سے ٹی اوآرز طلب کرلئے

سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کو بتایا کہ وزیراعظم تحقیقاتی کمیشن کو تسلیم کرتے ہیں، اگر الزامات ثابت ہوئے تو وزیراعظم قانونی نتائج کو تسلیم کریں گے، وزیراعظم لندن جائیدادوں کی تحقیقات اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے عدالتی تجاویز سے متفق ہیں، وزیراعظم لندن کی جائیداد کے حوالے سے تحقیقات پر راضی ہیں تاہم انہوں نے موقف اپنایا کہ اس طرح کے الزامات جہانگر ترین، عمران خان اور ان کی بہنوں پر بھی ہیں اور استدعا کی کہ کمیشن انکی بھی تحقیقات کرے۔ دیگر فریقین نے بھی تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے تحریری جوابات عدالت میں پیش کئے، تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا موقف تھا کہ تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کے برابر اختیارات کے ساتھ شریف فیملی کے خلاف اور رقوم کی منتقلی سمیت تمام الزامات کی مکمل اور جامع تحقیقات کرے، جبکہ جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور کا کہنا تھا کہ کمیشن کے پاس سزا اور جزا کا بھی اختیار ہونا چاہیئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سیاست ضرور کریں لیکن تحمل کے ساتھ، ہم اس معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تمام فریقین کمیشن سے متعلق جواب دیں، آٹھ ماہ سے فریقین پش آپس لگا رہے ہیں، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ملک کو انتشار اور بحران سے بچانا ہے، پورا ملک پانامہ اسکینڈل سے متاثر ہوا، انہوں نے کہا کہ مجوزہ تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کو رپورٹ کرے گا اور کمیشن کو سپریم کورٹ کے اختیارات حاصل ہونگے، تمام فریقین کمیشن کے ٹی او آرز پیش کریں ،عدالت ان کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقانی کمیشن کے پاس تمام معاملات کی تحقیقات کا مکمل مینڈیٹ ہوگا۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.