ہلیری کلنٹن شام کے ایشو پر تیسری جنگ عظیم کرا کے رہیں گی ،ٹرمپ

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ امریکہ کو شامی صدر بشار الاسد کو استعفیٰ دینے پر قائل کرنے کی بجائے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔۔۔ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت رپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا کہ وہ ان کے پیچھے کھڑے نہیں ہو رہے۔۔۔وہ ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ٹرمپ نیشنل ڈورل گولف ریزورٹ میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ امریکا  صرف شام سے نہیں، بلکہ شام سے، روس سے اور ایران سے لڑ رہا ہے اور اس پر ہلیری کلنٹن کی سنی گئی تو تیسری جنگ عظیم ہوکررہے گی۔۔۔۔ روس ایٹمی طاقت ہے۔ کچھ ایسے ملکوں کے مقابلے میں جہاں خالی خولی باتیں بنائی جاتی ہیں، روس ایسا ملک ہے جہاں ایٹمی ہتھیار کام کرتے ہیں۔۔۔ انھوں نے ری پبلکن پارٹی کی قیادت کے بارے میں کہا کہ لوگ بہت برہم ہیں، کیوں کہ اگر ہمیں اوپر کی حمایت حاصل ہو تو ہم یہ انتخابات سو فیصد جیت سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس کے بغیر بھی جیت جائیں گے۔۔۔ یادرہے  پچھلے ہفتے کانگریس کی ایک سماعت کے دوران چیئرمن جوائنٹ چیفس مرین جنرل جوزف ڈنفرڈ نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ شام میں نو فلائی زون کا مطلب روس سے جنگ ہو سکتا ہے۔۔۔20 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ مباحثے کے دوران کلنٹن نے کہا تھا: نو فلائی زون کے قیام سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے۔۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.